پاکستان

بلاول بھٹو لائیو تقریب کے دوران ’’توشہ خانہ‘‘ کو ’’توچہ خانہ‘‘ بولتے رہے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اپنے گزشتہ روز جلسے کے دوران ’’ توشہ خانہ ‘‘ کو ’’ توجہ خانہ بولتے رہے ہیں ۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر کے دوران عمران خان پرتنقید کے نشتر برساتےہوئے کہا کہ توچہ خانہ دراصل ہوتا کیا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ

جب کسی دوسرے ملک کا صدر کسی ملک کے وزیراعظم یا صدر کو کوئی تحفہ دیتا ہے تو وہ ذاتی نہیں ہوتا بلکہ اسے توچہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے اگر اسے اپنے گھر لے جانا چاہتے ہیں تو اسے پہلے توچہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے پھر اس کی قیمت دے کر اسےلے جا سکتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے چیئرمین وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عمران خان کو عدالتوں میں کرپشن کا جواب دینا پڑے گا ،عوا م کو تھوڑی دیر اتحادی جماعتوں کی حکومت کو بھی ٹائم دینا چاہیے۔لاڑکانہ میں بے نظیر بھٹو کے یومِ ولادت پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خان صاحب نے کرپشن کے لیے خاتونِ اول کے ساتھ مل کر ایک کمپنی بنائی ،کمپنی میں کک بیکس پہنچائے اور اْس کمپنی کے ذریعے مختلف لوگوں نے کرپشن کی۔انہوں نے کہا کہ اب عمران خان اور اْن کی اہلیہ کو عدالتوں میں کرپشن کا جواب دینا ہوگا، وہ اس سے بچنے کے لیے سازش ، سازش کی رٹ لگارہے ہیں مگر عوام نے اب اْن کا چہرہ پہچان لیا ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اب عوام اور بالخصوص پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنان اس جھوٹ پر یقین نہیں کریں گے اور ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لائیں گے، پی پی کے کارکنان نے جیسے ماضی میں پاکستان کو مشکلات سے نکالا ویسے ہی اب عمران خان کی تیار کی گئی مشکلات سے نجات دلائیں گے۔

عمران خان نے سبسڈی کے نام پر گیم کھیلی، وزیراعظم شہباز شریف اوران کی ٹیم نے پاکستان کودیوالیہ ہونے سے بچایا۔ عمران نیازی نے ملک کونقصان پہنچایا اوروہ آج آزاد پھر رہا ہے، میں سمجھتا ہوں اس شخص سے حساب لینا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ شہید محترمہ ملک کے لیے30سال جدوجہد کرتی رہی،

بینظیر نے جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کی، میری والدہ ہر ظالم اور ہر ا?مر سے ٹکرائی۔ محترمہ شہید ملک کے غریب عوام کی آوازتھی، بے نظیرکوشہید کرنے والے سمجھ رہے تھے پیپلزپارٹی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کل بھی شہید محترمہ زندہ تھی اورآج بھی جیالوں کی صورت میں زندہ ہے،

جیالوں نے آمر ضیا الحق، پرویز مشرف کا مقابلہ کیا، جیالوں نے ضیا الحق، پرویز مشرف کے بعد ایک اور سلیکٹڈ کو شکست دی، جیالوں نے پہلے دن سے سلیکٹڈ کے خلاف جدوجہد کا آغازکیا تھا۔ ہم نے کہا تھا سلیکٹڈ کو نکالیں گے لیکن غیر جمہوری راستہ نہیں اپنائیں گے، ہم نے جمہوری اورآئینی تھیاراستعمال کرکے اسے باہرپھینکا، جیالوں نے عدم اعتماد کامیاب کرا کر تاریخ رقم کی،

عمران خان کو عدم اعتماد کے طریعے گھربھیجنا ضروری تھا، سلیکٹڈ عوام کے حقوق پرحملہ آورہورہا تھا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سلیکٹڈ اٹھارویں ترامیم، بے نظیرانکم سپورٹ، آئینی حقوق پرحملہ کرتا رہا

، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر آئینی طریقے سے حکومت وختم کیا، اقتدارسنبھالا تو پتا چلا ملک کو کتنا نقصان پہنچایا گیا، پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کوپڑھا تو پتا چلا عوام کے ساتھ مذاق کیا گیا،

عمران خان نے ان فنڈز سبسڈی کے نام پرگیم کھیلی، سبسڈی کی وجہ سے اتنا نقصان اٹھایا ڈیفالٹ ہونے کا خدشہ تھا، وزیراعظم اوران کی ٹیم نے پاکستان کودیوالیہ ہونے سے بچایا

۔پی پی چیئر مین کا کہنا تھا کہ پاکستان کوچارسال میں معاشی نقصان پہنچایا گیا، ہماری خارجہ پالیسی کا نعرہ ہے ہم تجارت چاہتے ہیں بھیک نہیں مانگیں گے، اب نئی حکومت آئی ہے جودنیا میں پاکستان کا دفاع کرے گی،

دنیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کوبہترکریں گے، اگرہم نے امریکا سے بات کی تجارت پر بات کی، فیٹیف کے حوالے سے پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی، فیٹیف کی وجہ سے پاکستان پر کئی پابندیاں تھیں، ایک منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی فنانسنگ کی وجہ سے پاکستان پر ایف آئی آر تھی،

آپ کی حکومت کی جدوجہد کی وجہ سے تمام ریکوئرمنٹ کو پورا کیا گیا، تمام سیاسی جماعتوں، اداروں نے کامیابی حاصل کیں، اکتوبرتک فیٹف کی گرے لسٹ سے نکل جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری کی محنت کی وجہ سے پاکستان کو پہلی بارجی ایس پی پلس کا سٹیٹس ملا،

عمران خان کی خارجہ پالیسی، انا کی وجہ سے جی ایس پی پلس سٹیٹس خطرے میں ہے، فیٹیف کی کامیابی کے بعد جی ایس پی پلس کی خوشخبری دیں گے، ہم نے دوسروں کوگالی دینے کے بجائے محنت کی، محنت کا پھل ضرورملتا ہے۔ عمران خان کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران اور مہنگائی ہے،

عمران خان کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا کھڑا تھا، پی ٹی ا?ئی چیئر مین کی وجہ سے پاکستان کے ادارے متنازع ہو چکے تھے، عمران نیازی نے ملک کونقصان پہنچایا اوروہ آج آزاد پھر رہا ہے، عام آدمی اس کے کیے کا بوجھ اٹھا رہا ہے، میں سمجھتا ہوں اس شخص سے حساب لینا چاہیے

، اس سے پوچھنا چاہیے کہاں ہے تبدیلی؟ آج ان کے خلاف کرپشن کے کیسزنکل رہے ہیں، ثابت ہوگیا عمران خان کا کرپشن کا نعرہ سوفیصد جھوٹ تھا، عمران خان نے توشہ خانہ خالی کردیا تھا، بلاول نے کہا اس نے توشہ خانہ میں چیزیں رکھنے کیبجائے چیزیں بیچنا شروع کردیں،

اس نے گھڑی کو بیچ دیا، جب اس ملک کے سربراہ کوپتا چلا تواس ملک کے سربراہ نے ود گھڑی کوخرید لیا، یہ ہمارے ملک کی بے عزتی تھی، یہ آدمی کرپشن کے خلاف درس دیتا تھا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ عمران خان نے ایک کمپنی بنائی جہاں کِک بیکس جاتی تھی،

عمران خان کوعدالت، نیب میں کمپنی اور تحفوں کا جواب دینا ہو گا، اب جواب نہیں ہے تو عوام کو ورغلا رہا ہے، عمران خان یہ 2018ئ� نہیں ہے عوام تبدیلی کو پہچان چکے ہیں، عوام جان چکے تبدیلی نہیں تباہی تھی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں تمام جماعتیں ملک کی ترقی کے لیے کام کررہی ہیں

، ہم سب نے جب نالائق سلیکٹڈ کو برداشت کیا تو ہمیں تھوڑی دیر اتحادی جماعتوں کی حکومت کو بھی ٹائم دینا چاہیے تاکہ ہم معاشی اور انتخابی ریفارمز کر کے الیکشن میں جائیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک بار یہ سارے کام مکمل ہونے کے بعد ہم ایک بار پھر شہر شہر جاکر

بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کا پیغام پہچانا ہے اور اپنی جیت کے لیے مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے وزیر خارجہ بننے کے بعد بہت سے ممالک کا دورہ کیا اور پاکستان کی ساکھ کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی، ہم نے امریکا سے دو طرفہ تجارتی تعلقات بہتر کرنے کی بات کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button