پاکستان

پاکستان میں ہر سال غلط ادویات دینے سے 5 لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، ماہرین

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ مشاہدات میڈیکیشن وِدآٹ ہارم کے عنوان سے منعقدہ ویبینار میں طبی ماہرین نے پیش کیے۔شوکت خانم میموریل ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈائریکٹر فارمیسی ڈویژن ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)ڈاکٹر نور محمد شاہ

اور کونسلر کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب نے اپنے اپنے علاقوں کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں۔طبی ماہرین نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ ادویات تجویز کرنے اور مریضوں کے علاج کیلئے معیاری طبی اور کلینکل پروٹوکول پر سختی سے عمل کریں، ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی غفلت کی صورت میں متعلقہ حکام معاملے کی انکوائری کریں تاکہ اصلاحی اقدامات کرکے مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جاسکے۔ڈاکٹر ثاقب عزیز ے مطابق تقریب کا مقصد صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد اور مریضوں کو غلط ادویات دینے کی وجہ سے نقصان کے خاتمے میں مدد فراہم کرنا ہے۔انہوں نے ادویات کے غلط استعمال کے حوالے سے وضاحت کی اور دواں کی حفاظت کے لیے 4 موضوعات پر روشنی ڈالی جن میں عوام اور مریض، پیشہ ور افراد، ادویات اور نظام شامل ہیں۔انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ادویات کی حفاظت ایک عالمی چیلنج ہے، یہاں تک کہ امریکا جیسے ملک میں ہر 100 میں سے 2 یا 6 مریضوں کے ساتھ غلط ادویات کے استعمال کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ثاقب عزیز نے ادویات کے غلط استعمال کے مختلف پہلوں کی وضاحت کی،

انہوں نے کہا کہ ایسی غلطیاں ادویات کے انتظام کے کمزور نظام اور انسانی عوامل کی وجہ سے پیش آتی ہیں، جس کی وجہ سے ادویات کی تجاویز، نسخہ، ڈسپینسنگ، انتظامیہ اور نگرانی کے طریقوں کر بری طرح متاثر کر رہی ہے جس کے باعث مریضوں کو کوئی معذوری یا ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

مریضوں کی حفاظت کے موضوع کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے ادویات کے غلط استعمال سے بچا اور کسی بھی منفی واقعے کی صورت میں شوکت خانم میموریل ہسپتال کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ

ایسی غلطیوں کی تحقیقات کو حتمی شکل دینے کے بعد اس کے بعد انسداد کے اقدامات کیے جائیں۔پروفیسر محمد طیب نیادویات کے استعمال کے جائزے اور اس کی حفاظت کے لیے کسی بھی خطرے کی تشخیص کے منصوبے پر تفصیلات پیش کیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button