پاکستان

جناب چیف جسٹس میری گرفتاری، ہتھکڑی لگانے اور قصوری چکی میں ڈالنے کا بھی نوٹس لیا جائے، عرفان صدیقی نے اپیل کر دی

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن )کے سینیٹر عرفان صدیقی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، مسٹر جسٹس اطہر من اللہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اْنکی گرفتاری، ہتھکڑیاں لگانے اور اڈیالہ جیل میں ڈالنے کی بھی جوڈیشل انکوائری کرائیں۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ

عزت مآب چیف جسٹس، اطہر من اللہ صاحب ! نصف شب کو عدالت لگا کر محترمہ شیریں مزاری کی دادرسی اور جوڈیشل انکوائری کا حکم بہت اچھا لگا، کیا ممکن ہے کہ محترمہ شیریں مزاری کے دور میں آدھی رات کو میری گرفتاری، ہتھکڑی لگانے اور اڈیالہ جیل کی قصوری چکی میں ڈالنے کی بھی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔یاد رہے کہ عرفان صدیقی کو تحریک انصاف کی حکومت کے دوران جولائی 2019 میں آدھی رات کے وقت پولیس اور دیگر اداروں کی بھاری نفری نے اسلام آباد میں واقع انکے گھر سے گرفتار کر لیا تھا، اگلے روز ہتھکڑی لگا کر اسسٹنٹ کمشنر مہرین بلوچ کے سامنے پیش کیا گیاجس نے انہیں چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا تھا جہاں انہیں سنگین جرائم میں ملوث ملزموں کیساتھ قصوری چکی میں ڈال دیا گیا تھا،بعد میں بتایا گیا کہ انہیں کرایہ داری کے قانون میں ایک ایسے گھر کے حوالے سے پکڑا گیا ہے جو انکی ملکیت بھی نہیں تھا،بار بار کے مطالبوں کے باوجود آج تک اس واردات کی انکوائری نہیں کرائی گئی،ہفتہ کے دن پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری ہزاروں کنال زمین کے بارے میں پی ٹی آئی دور میں درج ایک ایف آئی آر پر عمل میں آئی. معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے آیا تو رات گئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس کیس کی سماعت کے بعد جہاں شیریں مزاری کی رہائی کے احکامات جاری کیے، وہاں یہ بھی کہا کہ گرفتاری کی انکوائری کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے اس فیصلے کی روشنی میں کسی ایف ائی آر کے بغیر اپنی گرفتاری کی بھی عدالتی انکوائری کی اپیل کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button