تازہ ترینانٹرنیشنل خبریں

روس کا یوکرین پر حملہ، اب تک کیا کچھ ہوچکا ہے؟ وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

روس کی جانب سے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کردیا گیا ہے ۔ صدر پیوٹن کے حملے کے اعلان کے بعد سے اب تک کیا پیشرفت ہوچکی ہے؟ اس حوالے سے ہم پوائنٹس کی شکل میں آپ کو نیچے آگاہ کریں گے۔

1: روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرین پر حملے کا حکم دیا اور مغربی قوتوں کو دھمکی دی کہ اگر انہوں نے مداخلت کی تو اس کے ایسے نتائج ہوں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے۔

2:پیوٹن کے حکم کے بعد روس کی فوج نے مختلف اطراف سے یوکرین پر حملہ کردیا ۔ روسی فوج نے حملے میں طیاروں کے ذریعے بمباری کرنے کےساتھ ساتھ اہم فوجی تنصیبات پر میزائل حملے بھی کیے۔3:روس کے حملے کے بعد یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا، انہوں نے شہریوں سے روس کے خلاف لڑنے کی اپیل کی اور کہا کہ جو بھی شہری یوکرین کے دفاع کیلئے لڑنا چاہتا ہے اسے اسلحہ دیا جائے گا۔

4:یوکرین پر حملے کے نتیجے میں فوجیوں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہلاک ہوئے تاہم حتمی تعداد سامنے نہیں آسکی۔

5:یوکرین کی نیشنل پولیس فورس کا کہنا ہے کہ دن کے آغاز سے اب تک روس نے یوکرین پر 203 حملے کیے ہیں۔

6:یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کہ ان کی جوابی کارروائی میں 50 روسی فوجی ہلاک اور چھ جنگی طیارے تباہ ہوئے ہیں۔
7:روس کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کی 74 فوجی تنصیبات تباہ کردی ہیں، ان میں 11 ایئروڈروم بھی شامل ہیں، یہ وہ جگہ ہے جہاں سے جنگ کے دوران لڑاکا طیاروں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

8:مغربی قوتوں نے روس کے حملے کی مذمت کی ہے۔

9:اقوام متحدہ نے روس سے درخواست کی ہے کہ وہ معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرے۔

10:برطانیہ، فرانس، جنوبی کوریا، ترکی اور دیگر امریکی اتحادیوں نے روس پر سخت پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔

11:یورپی یونین نے یوکرین کے پڑوسی ملکوں سے کہا ہے کہ وہ جنگ سے فرار ہونے والے یوکرینی شہریوں کیلئے اپنے بارڈر کھول دیں اور انہیں تحفظ فراہم کریں۔
12:نیٹو کا کہنا ہے کہ یوکرین میں ان کی کوئی فوج موجود نہیں ہے۔ نیٹو نے مشرقی یورپ کے دیگر علاقوں میں حفاظتی اقدامات تیز کردیے ہیں۔

13:یوکرین کی حکومت نے عالمی برادری سے مداخلت اور اسلحے کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔ یوکرین نے ترکی سے بھی کہا ہے کہ وہ آبنائے باسفورس میں روس کے بحری جہازوں کا داخلہ بند کرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button