پاکستان

سابق سفیر اسد مجید کی بریفنگ پر وزارت خارجہ کا بیان سامنے آگیا

اسلام آباد (آئی این پی) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ سفیر کی بریفنگ اور تشخیص قومی اسلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں درست طور پر ظاہر کیا گیا‘سفیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو سائفر ٹیلیگرام کے سیاق و سباق اور مواد کے بارے میں بریف کیا تھا جو بالکل درست ہے‘اجلاس میں سفیر اسد مجید نے قومی سلامتی کمیٹی کو اپنی پیشہ ورانہتشخیص سے آگاہ کیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید کے بیان کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمٹی کے

اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے اعلامیے میں سفیر اسد مجید خان کے بیان کے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سفیر کی بریفنگ اور تشخیص قومی اسلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں درست طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق سفیر اسد مجید خان کے بیان کے متعلق ترجمان کا کہنا ہے کہ سفیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو سائفر ٹیلیگرام کے سیاق و سباق اور مواد کے بارے میں بریف کیا تھا جو کہ بلکل درست ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اجلاس کے دوران سفیر اسد مجید نے قومی سلامتی کمیٹی کو اپنی پیشہ ورانہ تشخیص سے آگاہ کیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید نے قومی سلامتی کمیٹی کو دھمکی آمیز مراسلے سے متعلق بریفنگ دی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن سے پاکستانی سفارتخانے کیمراسلے کا جائزہ لیا گیا جبکہ اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کا اعادہ بھی کیا گیا۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اجلاس میں کمیٹی نے پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے موصول ٹیلی گرام کا جائزہ لیا جس پر امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے کمیٹی کو ٹیلی گرام کے مندرجات سے آگاہ کیا جبکہ اجلاس میں کمیٹی نے مندرجات اور کمیونیکیشن کا تفصیلی جائزہ لیا۔ایجنسیوں نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سازش سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا، سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button