پاکستان

حکومت کا ہفتے میں کام کے دنوں میں کمی پر غور

لاہور(آئی این پی) حکومت بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تیل کی کھپت اور درآمدی بل میں اضافے کے باعث ہفتے میں کام کے دنوں میں کمی کے ذریعے ایندھن کی بچت کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے، اس اقدام سے تقریباً 27 ارب ڈالر تک کا سالانہ زرمبادلہ بچنے کی امید ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تخمینے کام کے دنوں اور ایندھن کی بچت کے حوالے سے تین مختلف منظرناموں پر مبنی ہیں جو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈیڑھ ارب سے 2 ارب 27 کروڑ ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت کے لیے تیار کیے ہیں۔رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران پاکستان کی تیل کی مجموعی درآمد 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 96 فیصد کی بڑی نمو کو ظاہر کرتی ہے۔تیل کی مجموعی درآمدات میں 8 ارب 50 کروڑ ڈالر کی پیٹرولیم مصنوعات اور 4 ارب 20 کروڑ ڈالر کے پیٹرولیم خام تیل کی درآمد شامل ہے، جو بالترتیب 121 اور 75 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔یہ اضافہ صرف بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی درآمدی مقدار میں بھی بالترتیب 24 فیصد اور 1.36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ متعلقہ حکام یعنی پاور اور پیٹرولیم ڈویژنز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے تخمینوں کے ساتھ آئیں جس میں بجلی کی بچت بھی شامل ہے تاکہ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مختلف شعبوں کے لاگت کے فوائد کے تجزیہ کے ساتھ اس معاملے کو جامع انداز میں اٹھایا جا سکے۔ مرکزی بینک کا تخمینہ زیادہ تر ہفتے کے عام کام کے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت کا احاطہ کرتا ہے جس میں ریٹیل کاروبار، سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے شامل ییں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button