تازہ تریننیشنل خبریں

جمہوریت کاروبار بن گئی تو نتائج اچھے نہیں آئینگے ، بکنے والوں کی کوئی عزت نہیں رہے گی ، شیخ رشید

ملک میں جاری سیاسی گرما گرمی اور جوڑ توڑ کیلئے سیاسی رابطوں پر وزیر داخلہ شیخ رشید نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کاروبار بن گئی تو نتائج اچھے نہیں آئینگے ، بکنے والوں کی کوئی عزت نہیں رہے گی ۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ روس انتہائی کامیاب رہا ، بھارت کو وزیر اعظم کا دورہ روس ایک آکھ نہیں بھا رہا ، اپوزیشن نے اپنے ارکان کو چھانگا مانگا اور مری کی سیاست کی ترتیب دی ہے ، میں ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ سیاست میں خریدو فروخت کا بازار شروع ہوا تو جھاڑو پھر جائے گا ۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ اپوزیشن نے 172 ارکان پورے کرنے ہیں ، عمران خان نے بھی تاش اپنی چھاتی سے لگا رکھی ہے ، وہ ان کے خرید و فروخت کے بازار پر ایسا سیاسی ڈرون حملہ کرے گا۔ یہ لوگ جن سے سلام دعا کرنے کے قائل نہیں تھے اب ان کو طرح طرح کی پیشکش کر رہے ہیں ،یہ سارے مفاد پرست اکٹھے ہو رہے ہیں ، پوچھیں کیا چیز اکٹھی کر رہی ہیے ، ان کو خوف اکٹھا کر رہا ہے کہ اگر اب ان سے کچھ نہ ہوا تو ان کی کھال اتر جائے گی ، انہیں ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ اگر تحریک عدم اعتماد آئی تو عمران خان اور زیادہ خطرہ ثابت ہوگا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ لندن میں بیٹھے لوگوں کے نام لے کر گالیاں دینے والے نے منت سماجت کا پروگرام شروع کیا ہوا ہے ، ہر گھرمیں ووٹ کی خیرات مانگنے جا رہے ہیں ، بِکنے اور بکنے والے کسی کو شکل دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ، ، پارٹیوں پر امتحان کے وقت آتے ہیں ، دیکھیں گے کہ عمران خان جرات کے ساتھ سارے کھیل کا مقابلہ کرینگے ۔

شیخ رشید نے کہا کہ سیاسی خلفشار دیکھ رہا ہوں کہ ان کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ، یہ سیاسی قبر کھودنے جا رہے ہیں ، ایک سال الیکشن میں رہ گیا ہے ، خطے کے حالات دیکھیں ، روس اوریوکرین ، چین اور تائیوان کے حالات دیکھیں ، اس وقت پاکستان میں مستحکم جمہوری حکومت کی ضرورت ہے ۔

صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئےوزیر داخلہ کا کہنا تھا ، عمران خان بھی 25 سال سے اس کھیل میں ہے ، وہ جانتا ہے کہ کب ، کون سا کارڈ کھیلنا ہے ، کسی کو کوئی اشارہ نہیں ملا ، آصف زرداری اور نواز شریف چلے ہوئے کارتوس ہیں ، یہ صرف شرارتیں کر رہے ہیں ، میری جہانگیر ترین سے کوئی دوستی نہیں ، میری باتوں پر پی ٹی آئی کے دوست ناراض ہوتے ہیں تو ہو جائیں لیکن عمران خان سے کہتا ہوں کہ جہانگیر ترین سے بات کریں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button