اسلامک کارنر

غسل کب واجب ہوتا ہے؟

سوال:مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ جب میں بیوی کے نزدیک جاتا ہوں اور اس سے بوس و کنار اور چھیڑ چھاڑ کرتا ہوں اور جسم کے مختلف حصوں جیسے سینے اور گردن کو چومتا ہوں اور اس کی شرمگاہ پر باہر باہر سے ہاتھ پھیرتا ہوں تو اسے مزہ آتا ہے اور کچھ دیر کے بعد میری بیوی کی شرمگاہ یعنی فرج میں سے پانی نکلتا ہے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ یہ انزال ہو گیا ہے یا یہ مذی نکل رہی ہے یا لیکوریا ہے ۔ کیونکہ اس پانی کے نکلنے کے ساتھ ساتھ اس کا مزہ کم نہیں ہوتا اور جب بہت دیر ہو جائے اور مزہ بڑھتا جائے تو پھر کہیں جا کر اس کو شدید مزہ آنے کے ساتھ ساتھ وہ قابو سے باہر ہو جاتی ہے اور جسم کانپ اٹھتا ہے اور جسم کو جھٹکے لگنے جیسا عمل ہوتا ہے ۔ اب ان جھٹکوں کے وقت معلوم نہیں ہوتا کہ کچھ پانی فرج سے نکلا یا نہیں کیونکہ پانی تو شروع سے ہی مسلسل نکل رہا تھا۔ کیا شروع سے جو پانی نکل رہا تھا وہی انزال کے معنی میں ہو گا؟ اور کیا اس سے غسل واجب ہو جائے گا؟ انزال کی کیا نشانیاں ہیں؟ اور عورت کو کیسے معلوم ہو گا کہ اب غسل واجب ہے گیا ہے جبکہ ابھی دخول بھی نہ ہوا

:جواب: زوجین کے باہمی بوس وکنار کے وقت شرمگاہ سے جو پانی نکلتا ہے وہ مذی ہے، فقہاء نے مذی کی پہچان یہ بتائی ہے کہ ”یہ ایسا سفیدی مائل پتلااور شفاف پانی ہے جو ملاعبت کے وقت نکلتا ہے، اور اس کے نکلنے کے بعد شہوت میں بالعموم مزید اضافہ ہوجاتا ہے“ اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے نکلنے سے صرف وضو واجب ہوتا ہے، غسل واجب نہیں ہوتا، البتہ وہ رطوبت جس کے بعد شہوت ختم ہوکر طبیعت میں فتور آجائے وہ شرعاً منی ہے، اس سے غسل لازم ہوتا ہے، اور عورت کی منی کی پہچان فقہاء نے یہ بیان کی ہے کہ وہ ”وہ پتلی اور زردی مائل ہوتی ہے“ اور خروج کے وقت بالعموم اس کا ا حساس ہوجاتا ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button