اسلامک کارنر

ایسی عورت جس کی نماز قبول اور نیکی قبول نہیں ہوگی ارشاد نبویﷺ ہے

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا تین لوگوں کی نہ نماز قبول ہوتی ہے اور نہ کوئی نیکی اوپر چڑھتی ہے 1۔ بھاگے ہوئے غلام کی جب تک کہ اپنے مولی کے پاس نہ آجائے اور ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دے دے 2۔ ایسی عورت جس سے اس کا شوہر ناراض ہو3۔ اور مست شرابی کی

جب تک شراب کا اثر ختم نہ ہو جائے اس حدیث کے فائدے میں لکھتے ہیں مرد عورت پر نگراں ہے اور عورت اس کے ماتحط ہے خدا کے بعد عورت کے لیے شوہر ہی ہےوالدین کےحق پر شوہر کا حق غالب ہو گیا ہے۔ اگر مذہب میں کسی کو سجدہ تعظیمی کی اجازت ہوتی تو عورت کو ہوتی کہ وہ شوہر کو سجدہ کرے۔ حدیث پاکﷺ میں ہے عورت کے لیے اس کا شوہر جنت یا جہنم ہے کیونکہ اس کے حق کو ادا کر کےجنت پا سکتی ہے۔ جس کا اتنا بڑا حق ہو بھلا اسے ناراض کیسے کیا جاسکتا ہے۔ بھر خدا نے جسے رفیق حیات بنایا ہے زندگی بھر کا ساتھی اور معاون بنایا ہو ۔ دنیا میں جس کے بغیر گزارا نہیں اسے کیسے ناراض رکھا جا سکتا۔ اس لیے اگر شوہر ناراض ہو جائے تو اسے راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے کیونکہ اس کے بغیر دنیا آخرت میں نقصان ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button