اسلامک کارنر

دوسری شادی والوں کے اہم پیغام

ایک بچی نے سوال کیا کہ ان کے والد نے چھپ کر ایک عورت سے شادی کر لی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ عورت ان کے گھر میں کام کرنے والی ماسی ہی تھی جس سے شادی کی ہے اب یہ کہتی ہے کہ جب ماں کو پتہ چلا ہے تو انہوں نے بہت زیادہ صدمہ لیا ہے دل پر ۔ اب اس میں کیا حکم شرع ہو گا اور ان کو اب اس صدمے سے باہر کیسے نکالا جائے؟اپنی والدہ کو پیار محبت سے سمجھائیں کہ وہ صبر وتحمل کامظاہرہ کریں یقینی سی بات ہے کہ یہ تکلیف ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے

اور وہی جو آپ کی والدہ کو تکلیف ہورہی ہے ہے وہی اس کو بہتر سمجھ سکتی ہیں ہم صرف دلاسہ دے سکتے ہیں کہ اگر صبر کریں گی تو انشاء اللہ آخرت میں انعام ملے گا بے صبری کرنا اور اللہ کی تقسیم پر اعتراضات کرنا یا اللہ کی بارگاہ میں شکوہ کرنا اس کا کوئی فائدہ نہیں اسی طرح سے اپنے آپ کوایسے ہی خواہ مخواہ تکلیفیں پہنچاتے رہنے میں کسی کو نقصان نہیں ان کو خود کو نقصان ہے اس سے نکلنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو مصروف کریں دینی کاموں میں سماجی کاموں میں تا کہ وہ صدمہ ذہن سے نکلے اگر پر بستر پر پڑے پڑے سوچتی رہیں گی تو پھر گھلتی رہیں گی ۔

دوسرا جو اس طرح کے مرض حضرات ہوتے ہیں کہ جو اتنے خود غرض قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ کسی کے جذبات کسی کے احساسات کا خیال نہیں رکھتے بس ان کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ مجھے سکون ملنا چاہئے میری مرضی پوری ہونی چاہئے میرا مطلب پورا ہونا چاہئے کسی کو کتنی اذیت ہورہی ہے کسی کا کتنا دل دکھ رہا ہے اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی وہ پھر اس طرح کا قدم اٹھا کر خود بھی پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی مبتلا کرتے ہیں ۔آپ کے والد کو راحت مل جائے یہ بہت ہی مشکل ہے کچھ عرصہ گذرے گا اس کے بعد وہ خود اپنے فعل پر پچھتا رہے ہوں گے اور پھر بڑے بھولے سے انداز

میں آکر آپ کی والدہ سے معافی مانگ لیں گے اگر تھوڑا سا سکون مل رہا ہے تو انہیں یہ سوچنا چاہئے تھا کہ بچے کہ ذہن پر کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اسی طرح زوجہ کہ احساسا ت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔یہ طریقہ کار قطعا غیر مناسب ہے اور پھر اکثر ہمارے ہاں جو دوسری شادی کرنے کے خواہشمند حضرات ہوتے ہیں انہوں نے شرعی مسائل تو سیکھے نہیں ہوتے

یہ تو آیت یاد ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ چار شادیا ں جائز ہیں مگر آگے نہیں پڑھتے کہ یہ بھی فرمایا کہ اگر تم عدل نہ کرسکو تو پھر ایک پر اکتفا کرو۔اور اکثر میں نے دیکھا ہے کہ چونکہ مسائل تو معلوم ہی نہیں ہوتے تو پھر وہ عدل و انصاف نہیں کرپاتے اور گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں لہٰذا ایسے خود غرض قسم کے لوگ کہ جن کو دوسروں کے قلبی احساسات کا کوئی احساس نہیں ہے خدارا کوئی احساس کریں ۔

آپ کے والد کو سوچنا چاہئے تھا کہ اگر یہی فعل ان کا داماد گھر کی ماسی کے ساتھ شادی کر کے کرتا تو ان کے لئے کس قدر باعث تکلیف تھا کیا بیٹی کی تکلیف ان کے لئے قابل برداشت ہوتی ۔اسی طرح اگر ان کا کوئی بہنوئی کرتا تو کس قدر تکلیف ان کی بہن کو ہوتی؟ ان کی زوجہ بھی تو کسی کی بیٹی ہے اور کسی کی بہن ہے ۔اتنا خود غرضی کا مظاہرہ کرنا انتہائی عذاب کا سبب ہے۔

اگرچہ دوسری شادی کرنا ناجائز نہیں ہے مگر باقی تمام چیزوں کو نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں ہے ۔شریعت اسلامیہ سب کے جذبات احساسات کا لحاظ کرنے کا حکم دیتی ہے اور عدل کے قیام پر زور دیتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button