دلچسپ و عجیبکہانیاں

میرے والدین میری شادی کہیں اور کروانا چاہتے تھے اس لیے۔۔۔ لڑکیوں کے گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے واقعات کا سبب والدین یا لڑکی خود؟

گزشتہ 10 روز میں کراچی سے تین لڑکیوں کے اغواء کی رپورٹس درج کروائی گئیں۔ والدین کے لیے بےشک یہ ایک کڑا وقت تھا لیکن کراچی پولیس بھی چین سے نہ بیٹھی۔ بالآخر گزشتہ روز تین میں سے 2 لڑکیوں کے اغواﺀ کے کیسز کا ڈراپ سین ہوگیا-پہلا کیس:اس معاملے کی شروعات کراچی کے علاقے الفلاح سے اغواﺀ ہونے والی دعا زہرہ سے ہوئی- جس کے بارے میں اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ ہماری بچی 14 سال کی ہے اور گھر سے باہر کچرا پھینکنے گئی تھی لیکن واپس نہیں آئی- تاہم 10 روز کی انتھک محنت کے بعد بالآخر دعا زہرہ کو بازیاب کروا لیا گیا اور آج اس کا ویڈیو پیغام بھی جاری ہوگیا- ویڈیو میں دعا کا کہنا تھا کہ مجھے اغواﺀ نہیں کیا گیا بلکہ میں اپنی مرضی سے گئی ہوں اور میں نے شادی بھی کر لی ہے- میرے گھر والے مجھے مارتے پیٹتے تھے اور میرے والدین میری شادی کہیں اور کروانا چاہتے تھے اس لیے بھاگ گئی اور میری عمر 14 نہیں 18 سال ہے اور میں اب اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں-

دوسرا کیس:کراچی سعود آباد سے لا پتا نمرہ کاظمی نے ڈیرہ غاذی خان کے نجیب سے نکاح کر لیا۔ نمرہ کا نکاح نامہ اور عدالتی دستاویزات مختلف ٹی وی چینلز پر دکھایاجا رہا ہے۔ نمرہ کا ویڈیو بیان بھی گزشتہ روز ہی جاری ہوا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور انہوں نےعدالت سے پروٹیکشن کی اپیل بھی کی گئی ہے۔تیسرا کیس:انہیں دس روز کے اندر سولجر بازار سے لاپتہ ہونے والی دینا کے والدین نے بھی لڑکی کے لاپتہ ہونے کی درخواست تھانے میں درج کروائی ہے۔ کیس کے متعلق کوئی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟کراچی سے نوعمر لڑکیوں کی پراسرار گمشدگی کے معاملے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ 10 روز سے گردش کرتی ان خبروں نے عوام میں خوف کی لہر دوڑا دی۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجتے ہوئے ڈر رہے ہیں۔ ایک انجانہ سا خوف ہے جو والدین کے لئے ظاہر ہے anxiety کا سبب ہے۔آخر والدین اپنے بچوں کی حفاظت کس طرح کریں؟13/14 سال کی لڑکیاں بہت کم عمر ہوتی ہیں اور ان کو صحیح غلط کی پہچان نہیں ہوتی۔ لیکن لڑکیوں کی عمر جو بھی ہو والدین کو چاہئے کہ ہر عمر کے بچوں کے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات رکھیں تاکہ بچہ اپنے ہر معاملات کو باآسانی والدین سے شیئر کر سکے۔آج کے ٹین ایج بچے کے لئے فرسٹریشن بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ وہ بہت سے معاملات میں دباؤ کا شکار ہے۔ ایکسپوژر بہت زیادہ ہے والدین سے زیادہ وہ سوشل میڈیا سے جڑا ہوا ہے۔ اور بعض اوقات ٹرینڈز کے دباؤ میں آکر وہ صحیح غلط کو پہچاننے میں غلطی کر سکتا ہے۔ والدین اپنے بچوں پر ایکسٹرا توجہ دیں سوسائٹی میں کھلے عام شرپسند عناصر دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان میں اچھے برے لوگوں کو پہچاننے کی حس ڈالیں۔ اور معاشرے کی برائیوں سے متعلق کھل کر ان سے بات چیت کریں تاکہ ان میں شعور پیدا ہو۔ہماری ذرا سی لاپرواہی ہمیں بہت بڑی مصیبت میں پھنسا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام والدین کی عزتوں کی حفاظت کرے۔ آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button