اسلامک کارنر

جنت میں جب اللہ کا دیدار ہوگا

آج کی یہ تحریر جنت میں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے متعلق ہے ۔حضور ﷺ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ہر ہفتے میں یعنی ہفتے سے مراد وہاں دن یا رات تو نہیں ہوں گے لیکن جتنی ہفتے کی مقدار ہوتی ہے اس کے برابر جمعۃ المبارک کے دن جنت الفردوس سے بھی اوپر یا اعلیٰ جگہ پر اپنا دربار منعقد فرمائیں گے اوپر نیچے سو جنتیں مقرر ہیں اور ہر جنت آسمانوں اور زمینوں سے بڑی ہے ان سو کے اوپر پھر کرسی ہے اس کے اوپر پھر سمندر ہے۔

اس کے اوپر پھر عرش خداوندی ہے تو کرسی گویا جنتیوں کی چھت کے اوپر ہے اس میں دربار خداوندی منعقد ہوگا اس حدیث کی تشریح کے اندر فرمایا گیا ہے کہ حضرت جبرائیل امین ؑ ایک دفعہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ایک آئینہ ان کے ہاتھ میں تھا آئینہ کے درمیان ایک نقطہ تھا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ نقطہ کیسا ہے ؟ تو حجرت جبرائیل امین نے عرض کی کہ اس کا نام مزید ہے تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا مزید کیا چیز ہے؟

حضرت جبریل ؑ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ جنت میں ایک میدان ہے
جس کانام مزید ہے اور وہ اتنا بڑا ہے کہ لاکھوں برس سے میں گھوم رہا ہوں اور اب تک مجھے اس کے کناروں کا پتہ نہیں چلا کہ کہاں ہیں اس کی ہر چیز سفید ہے زمین بھی سفید کنکریاں بھی سفید گھاس بھی سفید الغرض ہر چیز سفید ہے اور جب جمعہ کا دن آئے گا اس وقت اس دربار کے لئے تیاری کی جائے گی اس کے تمام میدان بیچوں بیچ اللہ رب العزت کی کرسی بچھائی جائے گی جس کا ذکر قرآن مقدس کے اندر یوں مذکور ہے

وسع کرسیہ السماوات والارض ولا یؤدہ حفظہما،آسمانوں اور زمینوں سے کہیں زیادہ بڑی کرسی ہے لیکن اس میدان میں جب کرسی بچھے گی تو وہ ایسی معلوم ہوگی کہ جیسے ایک بڑے میدان میں ایک چھوٹا سا چھلا ڈال دیا جائے وہ بیچوں بیچ بچھائی جائے گی اس کے ارد گرد انبیاء ؑ کے ممبر ہوں گے وہ نور کے ممبر ہوں گے اور ہر ممبر کے پیچھے امتیوں کی کرسیاں ہوں گی پھر جو عمل میں انبیاء سے زیادہ قریب ہوں گے

ان کی کرسیاں ممبر کے قریب
اور جو عمل میں بعید وہ اسی طرح دور اور بعید درجہ بدرجہ ہوں گے جب یہ دربار کا دن آئے گا تو تمام اہل جنت دربار میں شرکت کے لئے چلیں گے اب یہ لاکھوں میل کا فاصلہ سواریوں پر طے ہوگا تخت ہواؤں پر اڑیں گے لیکن وہاں اللہ رب العزت قوت متخیلہ عطا فرمائیں گے کہ تخت بیٹھ کر ارادہ کیا اور جہاں پہنچنا چاہا ایک لمحے کے اندر وہاں پہنچ گیا پھر کرسیوں میں یہ نہیں کہ وہاں ظلم کرنے والے کھڑے ہوں گے یا نظم کرنے والے ہوں گے کہ بھئی یہ کر سی تمہاری ہے یا یہ تمہاری نہیں بلکہ یہ قدرتی طور پر ہر آدمی اپنی اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ جائے گا اور کرسیوں کے پیچھے ایسے محسوس ہوگا۔

کہ جب اللہ تعالی کی تجلیات اتریں گی تو کر سی اس طرح چڑچڑائے گی کہ جیسے اب ٹوٹنے والی ہے وہ بدن کا بوجھ نہیں ہو گا کیونکہ اللہ رب العزت بدن سے پاک ہیں وہ بدن کے بھی خالق ہیں اور روح کے بھی وہ عظمت کا بوجھ ہوگا جس کو ارواح محسوس کریں گے وہ حسی اور جسمانی بوجھ نہیں ہوگا تو کرسی گویا ایسے چڑچڑائے گی جیسے تحمل کی طاقت نہیں رہی ۔اب گویا تجلیات اتر چکی ہیں حق تعالیٰ موجود ہیں انبیاء ؑ اردگرد نورانی ممبروں پر ہیں اور ان کے پیچھے ان کی امتیں اربوں کھربوں اولین اور آخرین سب جمع ہیں

حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حق تعالیٰ ملائکہ سے ارشاد فرمائیں گے کہ وہ جو ہم نے قرآن میں وعدہ فرمایا تھا ایک پاکیزہ قسم کا شراب ہم پلائیں گے وہ ان بندوں کو تقسیم کرو ملائکہ تقسیم شروع کریں گے گویا شاہی دربار کی طرف سے ایک ضیافت ہوگی اس کو پئیں گے اس سے ایسا سرور پیدا ہوگا کہ اس میں نشہ تو نہیں ہوگا لیکن اس شراب کے پینے سے عقل اور زیادہ تیز ہوجائے گی

اور معارف الٰہیہ اور علومِ ربانیہ اور زیادہ کھلنے شروع ہوجائیں گے انوارات اور برکات بڑھ جائیں گے تو یہ شراب طہور تقسیم ہوجائے گی۔پھر حضرت داؤد ؑ سے ارشاد ہوگا کہ اے داؤد اپنی وہ لحن داؤدی میں وہ مناجات سناؤ جو دنیا کے اندر تم پڑھا کرتے تھے کہ جس کی وجہ سے تمام کے تمام چرند اور پرند وجد میں آجاتے تھے پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے تھے ایک طرف وہ نشہ ہوگا پھر حضرت داؤد ؑ کے زبان اقدس کی تاثیر ہوگی

تو وہ کیا لمحے ہوں گے ۔ اس کے بعد اللہ ارشاد فرمائیں گے کہ تم مجھ سے جو چاہتے ہو سوال کرو آدمی سب عرض کریں گے کہ یا اللہ ہم نے تو سب کچھ پا لیا جنت مل گئی ہے اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے پھر بھی علماء سے پوچھیں گے علماء فتویٰ دیں گے کہ ایک ایسی چیز ہے جو ابھی تک نہیں ملی اور وہ ہے دیدار خداوندی جمال خداوندی کادیدار ابھی تک نہیں ہوا وہ طلب کرو اور بندے عرض کریں گے

یا اللہ آپ ہمیں اپنا دیدار کروا دیں اللہ ارشاد فرمائیں گے ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ٹھہری رہے اگر یہ نہ فرمائیں گے تو فرمایا گیا ہے کہ اللہ رب العزت کے چہرے کی پاکیزگیاں ہر چیز کو جلا کر خاک کر دیں اسی لئے خود ارشاد فرمائیں گے کہ ہر چیز تھمی رہے اس کے بعد حجابات اٹھنے شروع ہوجائیں گے حجابات اٹھ کر صرف ایک حجاب کبریائی باقی رہ جائے گا اس وقت بندوں کی کیفیت یہ ہوگی کہ ایک تو شراب طہورکا روحانی نشہ چڑھا تھا

داؤد ؑ کے مضمونوں سے معرفت کا نشہ بڑھا حق تعالیٰ کا جمال دیکھ کر اتنے محو ہوگے کہ ایک دوسرے کی خبر نہیں رہے گی یہ سمجھیں گے کہ گویا کوئی نعمت ہی ہمیں آج ہمیں نعمت ملی ہے اس نعمت کا نام شریعت کی اصطلاح میں مزید ہے جبرائیل ؑ نے کہا کہ یہ وہ میدان ہے اس میں وہ نعمت ملے گی جو سب کے اوپر مزید ہے جس کو قرآن مقدس نے ارشاد فرمایا کہ ولدینا مزید ہم ضابطے کا اجر تو سب کو دیں گے اور کچھ مزید بھی ہے ہم بعد میں دیں گے وہ مزید نعمت ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button