پاکستان

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے پاکستان کی اہم شخصیت کو آئیڈیل قرار دے دیا، نام سن کر آپ فخر محسوس کریں گے

لاہور: (ویب ڈیسک) آج کل دنیا میں کامیاب ترین سمجھے جانے والی نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو

اپنا آئیڈیل قرار دے دیا۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو ہارورڈ یونیورسٹی میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا، جہاں انہوں نے جمہوریت پر خطاب دیتے ہوئے اس کی

شروعات بینظیر بھٹو سے کی اور کہا بینظر بھٹو کی کئی سالوں پہلے کہی گئی باتیں آج کے دور میں بھی جمہوریت کا حقیقی راستہ ہیں۔

جیسنڈا آرڈرن نے اپنے خطاب کا آغاز ہی پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے نام سے کیا اور کہا کہ جون 1989 میں پاکستان کی وزیراعظم یہاں آئیں اور انہوں نے جمہوری

قوموں کو متحد ہونا چاہیے پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنے سفر اور شہریت کی اہمیت، حکومتی نمائندہ ، انسانی حقوق اور جمہوریت کے بارے میں بات کی۔ یہ خبر بھی پڑھیں: پٹرول

کے بعد یوٹیلیٹی اسٹورز پر آٹا بھی مہنگا ہوگیا جیسنڈا نے بتایا کہ ان کی 2007 میں بینظیر بھٹو سے جنیوا میں ملاقات ایک کانفرنس میں ہوئی تھی جس میں دنیا بھر سے ترقی پسند جماعتوں کو اکٹھا کیا گیا تھا اور اس کے صرف سات ماہ بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ سیاسی رہنما کے طور پر ہم سب کے بارے میں تاریخ میں مختلف

نقطہ انداز میں لکھا جائے گا لیکن بینظیر بھٹو کے بارے میں دو چیزیں جن کا تاریخ مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ وہ ایک اسلامی ملک میں منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون وزیر اعظم تھیں

جب اقتدار میں عورت ایک کا آنا انتہائی نایاب تھا۔ دوسرا یہ کہ وہ پہلی خاتون تھیں جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے ایک بچے کی ماں بنیں۔ ان کے 30 سال بعد میں وہ واحد خاتون لیڈر ہوں جس

نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ انہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ ان کی بیٹی کی پیدائیش 21 جون 2018 کو ہوئی جو بینظیر بھٹو کی بھی پیدائش کا دن ہے۔ ایک عورت کے طور پر انہوں نے جو راستہ بنایا وہ آج بھی اتنا ہی مشکل محسوس ہوتا ہے جتنا کہ دہائیوں پہلے تھا اور اسی طرح وہ پیغام بھی ہے جو انہوں نے دیا۔ جیسنڈرا نے مزید کہا کہ بینظیر

بھٹو نے 1989 میں اسی جگہ کھڑے ہو کر اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت بہت نازک ہوتی ہے۔ میں یہ ان کے یہ الفاظ ویلنگٹن، نیوزی لینڈ میں اپنے دفتر

میں بیٹھ کر پڑھے، جو پاکستان سے بہت دور ہے، تب انہوں نے یہ بات مختلف حالات میں کہی ہو گی لیکن آج کے دور میں بھی یہ سچ ہے۔ انہوں نے خطاب کے دوران کہا کہ ان کا بتایا ہوا

نامکمل لیکن قیمتی طریقہ جس سے ہم خود کو منظم کر سکتے ہیں، جو کمزوروں اور مضبوطوں کو یکساں آواز دینے کے لیے بنایا گیا ہے، جو اتفاق رائے کو آگے بڑھانے میں مدد کے

لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ بہت نازک ہے۔ جیسنڈرا نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد میں اداروں، ماہرین اور حکومت پر بھروسہ شامل ہے جو کئی دہائیوں میں استوار کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بھروسہ محض چند برسوں میں ختم بھی ہو سکتا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button