اسلامک کارنر

سال گیرہ کی شراع حیثیت کیا ہے؟

سال گیرہ کی حیثیت مباح ہے یعنی نہ گناہ نہ ثواب اور یہ جائز ہے بشرط اس میں اور خرافات نہ ہوں جیسے ڈھول ڈھمکہ ہے مرد عورت کا اختلاط ہے یہ کسی نعمت کو ضائع کیا جا رہا ہوں کسی کی دل آزاری کا کوئی عمل سبب بن رہا ہو یہ تکلیف کا سبب بن رہا ہوشور شرابا کر رہے ہیں محلہ والوں کو تکلیف ہو رہی ہے ان چیزوں کا سالگیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ فی نفسہ خود غلط ہے ۔ اگر جیسے اب کیک ہے اور ہلکی آواز میں ہیپی برٹھ ڈے ٹو یو وغیرہ کیا کیک کاٹا کھلایا اور کوئی مطلب نہ جائز عمور نہیں ہے تو فی نفسہ سالگیرہ بلکل جائز ہے ۔بعض لوگ نا دانی میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ جی انگریزوں کا طریقہ ہے ۔دیکھے کسی قوم کا جب ہم کہتے ہیں کہ طریقہ ہے اس کا مطلب کیا ہوتا ہے ۔اس کا مطلب ہوتا ہے۔

وہ چیز اُس قوم کے ساتھ خاص ہو اور ایسی خاص ہو جیسے اُس چیز کا خیال آئے تو فوراًذہن میں اُس قوم کا خیال آئےتو یہ ایسی چیزوں کا اختیار کرنا منع ہوتا ہےکہ جو مسلمانوں میں عام نہیں ہوئی کسی قوم کے ساتھ خاص ہیں جب اُس چیز کا خیال آئے گا اُس قوم کا خیال آئے گا ۔تو اس کو مسلمان کو اپنا نا منع کیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مسلمان اُس کو اپنائے گا مسلمانوں میں عام تو ہے ہی نہیں تو اُس کو دیکھ کر کافر ہونے کی بدگمانی پیدا ہوگی اور مسلمان کو اپنے آپ کو اس طرح پیش کرنا کہ لوگ اُس کو کافر سمجھیں یہ بدگمانی پیدا ہو یہ سہی نہیں ہے اس لئے منع کیا گیا ۔یو سمجھ لے کہ انگریز بر صغیر پاک اور ہند میں آئے تو یہ پینٹ شرٹ پہنتے تھے ۔ ہمارے ہاں تو یہاں کوئی رواج ہی نہیں تھا اس کا تو اگر کوئی دور سے پینٹ شرٹ پہنتے ہوئے آ رہا ہوتا تو اُس کو دیکھ کے کہتے کہ جی گورا صاحب آرہا ہے ۔یعنی وہ انگریز آرہا ہے۔ یعنی وہ انگریز آ رہا ہے وہ قریب آئے تو پھر اور واضع ہو جائے جب تک یہ اس طرح انگریزوں کے ساتھ خاص رہا اُس زمانے میں پینٹ شرٹ پہننا منع تھا ۔

کیونکہ اُس وقت کوئی مسلمان پہن کر آ رہا ہوتا تو کوئی سمجھتا کہ کافر آرہا ہے سامنے سے اور اپنے آپ کو بد گمانی پر پیش کرنا سہی نہیں پھر جب یہی پنٹ شرٹ مسلمانوں میں بہت زیادہ عام ہو گیا اب کوئی سامنے سے پینٹ شرٹ پہن کے آرہا ہے تو کوئی بھی یہ بد گمانی نہیں کرتا کہ کافر آ رہا ہے کیونکہ مسلمان بہت زیادہ عام ہو گیا ہےاب کفر کی بد گمانی نہیں ہوتی ایسے ہی سالگیرہ کا مسئلہ ہے ۔کہ یہ گھر گھر پھیل چکا ہے سب لوگ مناتے ہیں سالگیرہ کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ آپ سالگیرہ منائے جا رہے ہو تو آپ کے ذہن میں خیال آئے شاید یہ کرسچن فیملی ہے شاید کوئی یہودی فیملی ہے یہ ہندو فیملی ہے ایسا کوئی خیال نہیں آتامسلمانوں میں عام ہو چکا ہے ۔لہذا اب سالگیرہ منانے میں شراً کوئی حرج نہیں باقی خرافات تو منع ہیں وہ اس میں نہیں شادی میں بھی منع ہے ۔کہ شادی بیاہ سنت ہے لیکن اگر خرافات ہو تو خرافات کو ختم کیا جائے وہ غلط ہے ۔نہ کہ شادی کو منع کر دیا جائے۔ایسے سالگیرہ کا مسئلہ ہے۔ایک یہ بھائی نے پوچھا کہ کیا کوئی خاتون حالت حیض میں صورت اخلاص پڑھ سکتی ہے سنا ہے۔

کہ لفظ قل کو ہٹا کر پڑھ لیا جائے تو سہی ہوتا ہے تو کیا حکم شرا ہوگا؟دیکھے اصل اصول یہ ہے کہ جب کوئی ہماری بہن حالت حیض میں ہو تو وہ قرآن کو قرآن کی نیت سے نہیں پڑھ سکتی ہاں اگر قرآن کو دعا کی نیت سے پڑھیں پر سکتی ہیں۔جیسے ربنا آتنا فدنیا حس ا تاؤ وفی الآخرات حسناہ تو وقن عذابنار۔یہ دعا کہ طور پر پرہتے ہیں حالانکہ آیت بھی ہے۔ اور اسی طرح قرآن کی ہر اُس آیت یہ حصہ کو پڑھ سکتی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناہ ہے اور حمد و ثناہ کے نیت سے کہ میں اللہ کی تعریف کر رہی ہو بس قرآن پڑھنے کی نیت نہ ہو بلکہ اللہ کی تعریف کرنے کی نیت ہو مفہوم وغیرہ ذہن میں ہیں تو جیسے آیت الکرسی ہو پوری کہ میں نے حالت حیض میں اللہ کی صرف تعریف کی نیت سے نہ کہ قرآن پڑھنے کی نیت سے پڑھ سکتی ہیں اب آگئی ہے صورت اخلاص علماء نے فرما یا کہ صورت اخلاص بھی آپ دیکھے اللہ تعالیٰ کی بہترین تعریف پر مشتمل ہے اللہ کی وحدانیت کو اس صورت میں اس صورت کو بہت ہی اچھے انداز سے بیان کیا ہے ۔کلام تو اللہ تعالیٰ ہے ۔

صورت کی طرف نسبت کریں تو بہت اچھے انداز سے بیان ہوا۔تو اب کیا ہماری بہنیں صورت اخلاص کواللہ تعالیٰ کی فقط تعریف کی نیت سے پڑھ سکتی ہیں یہ سوال تھا ۔تو لہذا اگر لفظ قل کو شامل کر کے پڑھا جائے تو پھر چاہے وہ لاکھ تعریف اور حمد اورثناہ کی نیت کرے لیکن لفظِ قل سےاس کا قرآن ہونا وہ تعین ہو گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قل ۔قل تو کوئی تعریفی جملہ تو نہیں ہے اس کا مطلب یہ قرآن ہی پڑھ رہی ہیں اب چاہے نیت کچھ بھی کرے وہ قرآن ہی کہلائے گا تو منع ہوا اس لئے علماء نے فرما یا کہ جب صورت اخلاص کو کوئی حائضہ بہن اللہ تعالیٰ کی حمد ثناہ کی نیت سے پڑھے تو لفظ قل کو ہٹا دیں جب لفظ قل ہٹ گیا اب وہ پوری صورت جو ہے صرف تعریف اور ثنا ء پر مشتمل ہے تو اب اُس کا پڑھنا بلکل جائز ہوگا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button