اسلامک کارنر

کفریہ کلمات کونسے ہیں؟

ایک سوال آیا ہے کہ لائیٹ گئی ہوئی تھی ایک دن اچانک جلدی لائیٹ آگئی تو میری والدہ نے کہا کہ آج تو اللہ مہربان ہوگیا تو اس کا کیا حکم شرع ہوگا ؟ یہ کوئی کلمہ کفر نہیں ہے ،یہ تو والدہ نے خوشی کا اظہار کیا کہ بھئی آج تو اللہ مہربان ہوگیا نہ ان کا یہ کہنا مقصود ہوگا کہ الیکٹرک کمپنی خدا ہے اور وہ مہربان ہوگئی یہ تو کسی مسلمان کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتے لیکن یہاں یہ مشورہ ضرور دیتے ہیں کہ ہماری خواتین پہلے بول لیتی ہیں اور پھر سوچتی ہیں بہت جلد بازی میں کوئی بھی جملہ زبان سے نکال دیں گی اور جب کوئی احساس دلاتا ہے تو پھر اللہ سے توبہ کرنے لگتی ہیں اور بعض تو اس کا بھی خیال نہیں رکھتیں تو خلاصہ کلام یہ ہے اس طرح کے جملے کہ فوری طور پر انسان اپنے آپ کو روکے نہیں بلکہ آزادانہ زبان کو استعمال کرنے کا عادی ہوتا چلا جائے یہ کلمات کفر تک بھی پہنچا سکتا ہے۔

یہ جو اچانک والدہ کی زبان سے نکلا پہلے ذہن میں خیال آیا تبھی تو وہ الفاظ کے سانچے میں ڈھلا ہے تو شیطان اس قسم کے موقعوں پر ایک دم ذہن میں کوئی بات فیڈ کر دیتا ہے اور آپ فورا زبان سے نکال دیں گے تو مسئلہ پیدا ہوگا اس لئے سوچ سمجھ کر بولا جائے جب اللہ کے بارے میں فرشتوں کے بارے میں بات کریں تو بہت سوچ سمجھ کر بات کریں اس کلمہ میں کسی قسم کا کفر نہیں لیکن احتیاط ضروری ہے۔ دوسرا سوال اگر کوئی گائے میں ایک حصہ ملائے تو لوگ کہتے ہیں کہ سات حصے ملاؤ یعنی سات سال تک ایک ایک حصہ ملاتے رہیں۔سوال یہ ہے کہ ایک سال ایک شخص نے حصہ ملایا اور دوسرے سال وہ اپنی قربانی کرسکتاہے یا نہیں ؟ تو بالکل کر سکتے ہیں جس نے بھی یہ کہا ہے بالکل جہالت بھرا قول ہے اس طرح کے لوگ جہالت کی بنا پرفتوے جاری کر دیتے ہیں ۔

ایسا نہ کیا کریں کیونکہ رحمت کونین ﷺ کے فرمان کے مطابق جو بغیر علم کے فتوی دے اللہ تبارک وتعالی کے زمین و آسمان کے تمام فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں تو یہ شرعی حکم بیان کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے یہ بہت مشکل کام ہے اور ذمہ داری کا کام ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اغلاط سے محفوظ فرمائے لیکن پھر بھی اگر ہم سے کوئی خطا ہوتی ہے تو ہماری خطا کو معاف کیاجائے گا لیکن اگرکوئی جا ہل آدمی غلطی کرے گا تو اس کی سخت گرفت ہوگی کیونکہ وہ جہالت کے باوجود فتوی صادر کرتا ہے لیکن عالم کی خطا انسانی غلطی میں شمار ہوگی ہاں جان بوجھ کر غلطی نہ کی ہو۔اگلا سوال ایک دفعہ میں نے ایک وڈیو دیکھی کہ ایک فرشتہ کعبۃ اللہ کی چھت پر بیٹھ گیا تو میں نے وہ وڈیو اپنی والدہ کو دکھائی تو انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ خود اللہ ہو تو مجھے خیال آیا۔

کہ شاید یہ کلمہ کفر نہ ہو اس لئے میں نے انہیں ایصال ثواب کرنا چھوڑ دیا ہے تو اس کے بارے رہنمائی فرمائیں؟سب سے پہلے تو کسی سے کلمہ کفر کا ارتکاب کر وانے والے پر وبال ہوتا ہے اور دوسری چیز یہ ہے کہ فرشتے کبھی کیمرے کی آنکھ میں نہیں دیکھے جاسکتے اور نہ ہی ان کی ہیئت ترکیبیہ ایسی ہے کہ وہ کیمرے میں نظر آسکیں اس لئے کم علمی کی بنیاد پر اگر آپ کی والدہ نے ایسا کہا تو ان پر وبال نہیں اللہ مغفرت فرمانے والا ہے اور آپ کو ان کی اصلاح کرنی چاہئے تھی۔اور ان کا یہ کہنا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ خود اللہ ہی ہو تو اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ کم علمی اور جہالت کی وجہ سے انہوں نے یہ کہا اور ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ہم دین کا علم اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہی نہیں چاہتے ۔اللہ،رسول ،فرشتے ،جنت ،دوزخ،قیامت،آخرت، ان سب کے بارے میں ہم جاننا ہی نہیں چاہتے اور جان بوجھ کر کم علم رہتے ہیں لہٰذا ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اتنا علم جان لیں کہ ہمیں اللہ کی معرفت دین کی معرفت حاصل ہوسکے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button