اسلامک کارنر

مسجد الحرام اور محرم الحرام جیسے مقدس الفاظ میں “حرام “کا لفظ کیوں استعمال ہوتا ہے

اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسجدالحرام اور محرام جیسے پاکیزہ الفاظ کے ساتھ ‘حرام’کا لفظ کیوں آتا ہے،لفظ حرام تو ہمارے نزدیک اچھا نہیں،اسے خانہ کعبہ کے لئے استعمال کرنے سے جھجھک محسوس ہوتی ہے۔

اصل میں یہ جھجھک ہماری عربی زبان سے ناواقفیت کے سبب سے ہے عربی زبان کے وہ الفاظ جو دیگر زبانوں جیسے اردو میں استعمال ہورہے ہیں،وہ کئی بار اپنے حقیقی معنی کھو بیٹھتے ہیں یا اپنی ممکنہ وسعت سے محروم ہوجاتے ہیں یا پھر ان کے ساتھ ایسے تصورات جوڑ دیئے جاتے ہیں جو لفظ کی اصل روح کے خلاف ہوتے ہیں۔فقہی اعتبار سے چونکہ حرام ہراس کام کو کہتے ہیں

جس سے دین ہمیں روکتا ہو۔لہٰذا ایسے افعال کے ساتھ ساتھ لفظ حرام سے بھی ایک غیر محسوس ناپسندیدگی ہم سب مسلمانوں کے اذہان میں گھر کر گئی ہے۔حرام کے لغوی معنی”روکنے”کے ہیں۔حرام مادہ لفظ حرم سے نکلا ہے جس کے ایک معنی ‘مقدس جگہ’ کے بھی ہیں ۔مسجد الحرام چونکہ مقدس ترین جگہ ہے اور اس میں بہت سی حرمتیں مقرر کی گئی ہیں اسی رعایت سے اسے ‘مسجد الحرام’یعنی’حرمت والی مسجد’پکارا جاتا ہے۔مسجد الحرام حرام مکہ کی حدود میں تعمیر کی گئی ہے

اور شہر مکہ کو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش کے روز سے ہی قابلِ احترام بنایا ہے۔ یہاں کئی ایسے کاموں سے ہمیں روک دیا گیا ہے جو دوسری جگہوں پر کئے جاسکتے ہیں۔مثال کے طور پر:یہاں جنگ کرنا ممنوع ہے۔حرم مکہ کی حدود میں کسی جانور کا شکار کرنا،شکار کو ڈرانا یا اس کا پیچھا کرنا منع ہے۔حرم مکہ میں از خود اگنے ولے درختوں،پودو،اور ہری گھاس کاٹنا منع ہے۔دجال مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

اسی طرح سال کے چار مہینے(محرم،رجب،ذی القعدہ،ذوالحجہ)کو ا للہ نے حرمت والا قرار دیا ان میں لڑائی جنگ اور خون ریزی ممنوع ہے،محرم ان چار مہینوں میں شامل ہے اس لئے اس کی حرمت کی وجہ سے اسے محرم الحرام کہا جاتا ہے۔حج میں احرام کی حالت میں بھی حاجی پر بہت سی پابندیاں ہوتی ہیں اور اسی لئے اسے ‘احرام’کہاجاتا ہے۔مقدس چیزوں کے لئے”حرام”کا لفظ ناپسندیدگی کے لئے نہیں بلکہ ان کی حرمت کی وجہ سے لگایا جاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button