اسلامک کارنر

”رات کو جھاڑو دینا رات کو ناخن کاٹنا“

صفائی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے، یہ سب جہالت پر مبنی باتیں ہیں کہ شام کے وقت جھاڑو لگانا ٹھیک نہیں ہے۔ قرآن و حدیث میں صفائی کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے، جب بھی صفائی کی ضرورت ہو اسے کرنا چاہیے۔ بالفرض شام کے وقت آپ کے گھر میں گندگی پھیل جائے اور پورے گھر میں اس گندگی سے بدبو پھیل جائے تو کیا آپ صبح تک انتظار کریں گے؟

اس لیے صفائی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ جب بھی اس کی ضرورت ہو اسی وقت اسے کرنا چاہیے تو یہ زیادہ مستحسن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا : إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَبیشک اﷲ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہےo(الْبَقَرَة ، 2 :یہ بات محض عوام میں مشہور ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، رات میں جھاڑو لگاسکتے ہیں۔باقی اگر کسی بزرگ نے یہ لکھا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مکان صاف کرنے اور جھاڑو دینے کا وقت عرفاً دن ہے، رات نہیں ، اور ہر کام اپنے وقت پر کرنا چاہیے، لیکن یہ تعیین شرعی نہیں کہ اس کے خلاف کرنے سے انسان گناہ گار ہو
۔فقط واللہ اعلم222)اسی طرح حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا صفائی نصف ایمان ہے۔ لہذا صبح ہو یا شام، رات ہو یا دن، ہر وقت جب صفائی کی ضرورت پڑے تو اسے کرنا چاہیے۔ یہی اسلام کی منشا ہے۔واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button