اسلامک کارنر

اگر مشکلوں میں ہو غم بڑھتے ہی جارہے ہیں؟

کبھی کبھی ایساہوتا کوئی ایک محبت میں بالکل ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرے کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔بعض لوگ ساری زندگی صیحح چیزیں چنتے چنتے ایک بار یہ غلط چیز چن لیتےہیں اور یہ ایک غلطی ان کی باقی زندگی کا روگ بن جاتی ہے۔ پرانی تصویریں دیکھتے ہوئے اکثر مسکراہٹ اور کبھی کبھی آنکھوں میں نمی سی آجاتی ہے۔ کہ کتنا کچھ بدل گیا ہے۔ زندگی تصویر بھی ہے۔ اور تقدیر بھی، فرق بس رنگوں کا ہوتا ہے من چاہے رنگوں سے بنے تو تصویر اور انجانے رنگوں سے بنے تو تقدیر۔ جو پتھر میں کیڑوں کو پال سکتا ہے۔ وہی کوئی راستہ نکال سکتا ہے۔ وہ جو کن فیکون کا مالک ہے۔ ایک وہی یہ مصیبت ٹال سکتا ہے۔ بعض دفعہ آپ کسی سے محبت نہیں کرتے مگر اس کی بے پناہ محبت آپ کو محبت کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ محبت کے پیدا ہونے میں دیر لگتی ہے۔ مگر نف رت کے پیدا ہونے میں کوئی دیر نہیں لگتی پہلی چیز جتنی مشکل ہے دوسری چیز اتنی ہی آسان۔

آج کل تو رشتے داران لکڑیوں کی مانند ہوچکے ہیں۔ جودور ہوں تو دھواں دیتی ہیں۔ اور اکٹھے ہوجائیں تو آگ لگا دیتے ہیں۔۔ تین چیزیں بھائی کو بھائی کا دشمن بنادیتی ہیں : مال وزر ، زمین ، زبان۔ خوبصورت ہے وہ دل جو کسی کے درد کو سمجھے ، خوبصورت ہیں وہ ہاتھ جو کسی کو مشکل وقت میں تھام لیں۔ خوبصورت ہے وہ سوچ جو کسی کے لیے اچھا سوچے اور خوبصورت ہے وہ انسان جس کو اللہ نے یہ خوبصورتیاں عطا کی ہیں۔ اس دنیا میں سکون سے جینے کی ایک ہی تدبیر ہے کہ ہر انسان کے پاس ایک وسیع قبرستا ن ہو جہاں وہ لوگوں کی غلطیوں اور خامیوں کو دفنا آیا کرے۔ مسجد میں رہ کر اپنی جوتیوں کی فکر میں رہنے سے گلیوں میں آوارہ پھرتے ہوئے خد ا کویاد رکھنا بہتر ہے۔ یہ کف ن ، یہ قب ر ، یہ جن ا زے ، رسم شریعت ہے مرتو انسان تب ہی جاتا ہے ۔ جب یاد کرنے والا کوئی نہ ہو۔ محبت میں کسی کا ساتھ چھوڑنا اس کا قت ل کرنے کے برابر ہے

جس کی معافی نہ یہاں ہے اور نہ اس دنیا میں اللہ دے گا۔ جب کبھی اچانک دل اداس ہوجائے تو وہ روح کے مرمت کرنے کالہجہ ہوتا ہے اور سنا ہے کہ توبہ کرنے سے روح کی مرمت ہوجاتی ہے۔ عام آدمی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس کی زندگی میں صرف تین موقعے ایسے آتے ہیں جب وہ تنہا ء سب کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے ۔ عقیقہ ، نکاح اور تدفین۔ اپنوں کو ہمیشہ اپنا ہونے کا احساس دلاؤ ورنہ وقت آپ کے اپنوں کو آپ کے بغیر جینا سکھا دےگا۔ منزل قریب آئے کوئی راستہ ملے دشت جنوں میں ساتھ اگرآپ کا ملے کیسے سمیٹ پاتے وفاؤں کے بوجھ کو صد شکر ہم کو دوست سبھی بے وفا ملے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button