پاکستان

عمران خان نے ایک بار پھر اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی تاریخی چھترول کر دی

اسلام آباد(آن لائن ) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے ، نیوٹرلز کو بتادیا ملک غیرمستحکم ہوا تو یہ لوگ سنبھال نہیں سکیں گے، پاکستان بنانے کا اصل مقصد

آزادی تھی قائد اعظم کی بھی ساری کوشش آزادی تھی بھارت میں مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے پاکستان کا نعرہ آزادی کا نعرہ ہے جب ہم آزاد ہیں تو ممکن نہیں کہ کسی بھی غلامی کو قبول کیا جائے پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست ہے۔جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا تھا کہ مسلمانوں کو آزادی حاصل ہوگی اس لیے نہیں بنا کہ ایک غلامی سے نکل کر دوسری غلامی میں چلے جائیں۔انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست دنیا کی تاریخ میں بڑے انقلاب کا نام ہے، مدینہ کی ریاست میں رول آف لاء تھا، نبی پاکؐ نے فرمایا میری بیٹی بھی چوری کرے گی تو سزا ملے گی، ریاست مدینہ ایک انقلاب تھا، مدینہ کی ریاست نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی، زمانہ جہالت میں چھوٹے چوروں کو سزا ملتی اور بڑے چوروں کو این آر او مل جاتا تھا۔عمران خان نے کہا کہ قائد اعظم نے اس وقت بھانپ لیا تھا کہ بھارت مودی کا ملک بن جائے گا ہم نے رحمت العالمین اتھارٹی بنائی تاکہ ہمارے بچوں کو پاکستان بننے کی وجہ پتہ چلے، اللہ ہمیں نبی پاک ؐکی زندگی سے سیکھنے کا حکم ہماری بہتری کے لیے دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال 1700 ارب ڈالر غریب ممالک سے چوری ہوکر باہر چلا جاتا ہے جب کہ غریب ممالک کا 7 ہزار ارب ڈالر پیسہ باہر آف شور کمپنیز میں پڑا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ این آر او سے قوم تباہ ہوجاتی ہے،

بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد قانون توڑنے پر لائی گئی، بورس جانسن پر الزام تھا کہ کورونا کے دوران انہوں نے ایک اجتماع کیا تھا،عمران خان نے کہا کہ میں نے سائفر کو تین بار پڑھا تھا جب پہلی بار سائفر پڑھا تو میں نے سوچا کیا واقعی یہ سچ ہے؟ امریکیوں نے کہا کہ عمران خان کو فارغ نہ کیا تو سنگین نتائج برا?مد ہوں گے، مراسلہ جب پہلی بار پڑھا تو بار بار پڑھا کہ یہ کسی آزاد ملک کو کوئی کیسے کہہ سکتا ہے؟ میں حیران تھا کہ

امریکی کس کو حکم دے رہے ہیں ہمیں ہٹانے کا؟انہوں نے کہا کہ امریکی مراسلے کے بعد لوٹوں کو مہنگائی یاد آگئی، سائفر میں کہا گیا عدم اعتماد میں عمران خان کو فارغ نہ کیا تو برے نتائج ہونگے، کبھی کسی خوددار ملک میں ایسا سائفر نہیں آسکتا، کیسے ایک عام آفیسر کہہ رہا ہے کہ تم اپنے ملک کا وزیر اعظم ہٹا دو۔عمران خان نے کہا کہ دھمکی ا?میز مراسلہ پاکستان کی توہین ہے، صحیح معنوں میں اس کی تحقیقات ہوگئیں تو ملک کا بہت فائدہ

ہوگا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس سارا ریکارڈ موجود ہے کون کون امریکن ایمبیسی جا رہا تھا؟ سارے لوٹے امریکن ایمبیسی جا رہے تھے، جب وزیراعظم بنا تب ہی بتا دیا تھا یہ سارے چور اکٹھے ہو جائیں گے، ایک سال سے مجھے معلوم تھا میری حکومت کے خلاف کچھ ہورہا ہے ہاں صرف ایک بات پر یقین نہیں آتا تھا کہ شہباز شریف کو کیسے وزیر اعظم بنادیا گیا۔عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف کو سزا ہونے والی تھی، کیسے کوئی

شہباز شریف کو مسلط کرسکتا ہے، شہباز شریف اخبارات میں اشتہارات سے ترقی دکھاتے تھے شاید اخباری اشتہار دیکھ کر شہباز شریف کو قابل سمجھ لیا گیا ہو۔انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے حمزہ شہباز سے متعلق فیصلے پر کہا کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں، پانچ مخصوص نشستوں پر نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اب پھر سے ضمنی الیکشن میں مداخلت کی جا رہی ہے، ہمارے امیدواروں کو نامعلوم نمبر سے

فون کرکے ٹکٹ نہ لینے کا کہا جا رہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے نیوٹرل سے کہا کہ اچھا ہے آپ نیوٹرل رہیں لیکن آپ نیوٹرل رہے تو ملک کا نقصان ہوگا، نیوٹرلز کو بتادیا کہ ملک عدم استحکام کا شکار ہوا تو یہ لوگ اسے سنبھال نہیں سکیں گے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ سندھ بلدیاتی الیکشن پر حکومت کے اپنے اتحادی انگلیاں اٹھا رہے ہیں، بلدیاتی الیکشن میں پولیس کو استعمال کیا گیا، پنجاب کے 20 حلقوں کے الیکشن میں مداخلت ہو رہی ہے،

مجھے دوامیدواروں نے بتایا کہ انہیں فون آیا آپ نے تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں لینا، جس پارلیمنٹ میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہو تو سمجھ لے اسمبلی کیا ہو گی؟۔انہوں نے کہا لاہورہائی کورٹ فیصلے کے خلاف کل سپریم کورٹ جارہے ہیں۔ الیکشن کمیشن پرکسی کواعتماد نہیں، جو اس سیٹ اپ کومسلط کر رہا ہے اداروں کو نقصان پہنچا رہا ہے، ایک ہی راستہ ملک میں فری اینڈ فیئرالیکشن کرائے جائیں، سندھ، پنجاب کے الیکشن سے مزید

انتشاربڑھے گا، سندھ، پنجاب جیسا نہیں فری اینڈ فیئرالیکشن ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رجیم چینج کے بعد میڈیا پرپریشرڈالا گیا، پاکستان بننے کی بڑی وجہ لوگ آزادی چاہتے تھے، قائداعظم کی ساری جدوجہد آزادی حاصل کرنا تھی، پاکستان اس لیے نہیں بنا تھا کہ ایک غلامی سے نکل کردوسری غلامی میں آجائیں، ہمارا کلمہ انسان کوآزاد کر دیتا ہے، طاقت ورکواین آراودینے سے قوم تباہ ہوجاتی ہیں۔ غریب ممالک کا مسئلہ طاقتور کو سزا نہیں ملتی، ہر سال

غریب ملکوں سے اربوں ڈالر چوری ہوتے ہیں، 7 ہزارارب ڈالرغریب ملکوں کا آف شور کمپنیوں میں پڑا ہوا ہے، لبنان کے لوگ کرپشن کی وجہ سے 70 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے، اللہ نے حکم دیا اپنی نبی ? کی زندگی سے سیکھو، انگلینڈ میں پہلی دفعہ فلاحی ریاست دیکھی، بڑے، بڑے ڈاکوؤں کو1100ارب کی چھوٹ دیدی گئی ہے۔ پاکستان میں ساری سہولیات رولنگ کلاس کو حاصل ہے۔ پی ٹی ا?ئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہماری

حکومت کے کورونا کی وجہ سے پہلے دوسال بڑے مشکل تھے، اپوزیشن نے 3 ماہ لاک ڈاؤن لگانے کا پریشرڈالا نہیں لگایا، ہماری حکومت کے دوسال بڑے مشکل تھے، سترہ سال بعد ہماری حکومت میں مستحکم گروتھ ہوئی۔ زراعت، کنسٹرکشن سیکٹر میں ریکارڈ گروتھ ہوئی۔ پاکستان کی 6 فیصد گروتھ ہو رہی تھی، شکر ہے اسمبلی میں ان کے منہ سے نکل گیا ہے کہ کدھرسے فون آ رہے تھے، لوٹے امریکی سفیرسے ملاقاتیں کرتے رہے، اسی لیے

چاہتا ہوں جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے، جوڈیشل انکوائری ہوگی تو پاکستان کوفائدہ ہوگا تاکہ آئندہ غلطیوں کو نہ دہرایا جائے، میں نے اور شوکت ترین نے بھی نیوٹرل کوبتایا ملک میں عدم استحکام نہیں آنا چاہیے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو سزا ہونے والی تھی، ان کیسے کوئی آدمی اس کو اس ملک پر مسلط کر سکتا تھا، شائد وہ اس کوبڑا جنئس سمجھ رہے تھے کہ صبح جلدی اٹھتا ہے اور ملک کو بہتر کر لے گا، شہبازشریف نے اشتہارات

میں 50 ارب خرچ کیا تھا، شائد وہ غلطی فہمی میں تھے شائد ٹرن آؤٹ کر جائے گا، حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق ہماری حکومت میں ترقی ہو رہی تھی، ہماری حکومت میں ریکارڈ ایکسپورٹ ہوئی۔ آج مہنگائی آسمانوں پر اور ملک نیچے جا رہا ہے کون ذمہ دارہے؟ صدرمملکت نے سپریم کورٹ کو سائفربھیجا ہے کہ اوپن انکوائری کریں تاکہ ذمہ داروں کا پتا توچلے، 25سال بعد حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ آئی۔اْن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی

کی خلاف جنگ میں 80 ہزارپاکستانی مرگئے، آج بھی ہمارے فوجی قربانیاں دے رہے ہیں، ہم نے کیوں امریکا کی جنگ میں شرکت کی، سب سے زیادہ مغربی سوچ کوسمجھتا ہوں، عالمی دنیا میں کوئی دوستی نہیں اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اتنی بڑی قربانی دی، کیا کبھی امریکا نے ہماری اتبی بڑی قربانی کو سراہا، رجیم چینج کے بینشفری نہیں چاہتے سائفرکی انکوائری ہو، امریکا کو کرپٹ لوگ سوٹ

کرتے ہیں، امریکا جیسے ملک میں کسی کرپٹ کو چپڑاسی بھی نہیں رکھا جاسکتا، امریکا کوپتا ہے کرپٹ لوگ کنٹرولڈ ہوتے ہیں۔عمران خان نے کہاکہ اگراس طرح کے چوروں کو اقتدارمیں بٹھانا ہے تو پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں، ہماری حکومت بھی آئی ایم ایف پروگرام میں تھی ہمارے اوپر بھی پریشرتھا، اگر ہم ہی ذمہ دارتھے تو اتنی محنت کر کے کیوں ہٹایا، چوروں کا ٹولہ ملک کے اداروں کو تباہ کر رہا ہے، ان کی وجہ سے رول

آف لا تباہ ہورہا ہے، کرپٹ لوگوں نے اسمبلی میں اپنے 1100 ارب کے کیسز معاف کرا لیے، ہم سپریم کورٹ گئے ہوئے ہیں، نیب ترامیم کے بعد اب نیب کچھ نہیں کرسکتا۔ نیب ترامیم کے بعد وائٹ کالر کرائم کو پکڑنا ناممکن ہوگا۔چیئر مین پی ٹی ا?ئی نے کہا کہ یہ لوگ اقتدارمیں اپنی کرپشن بچانے سے آئے تھے، نوازشریف دورہ بھارت گیا تو حریت رہنماؤں سے ملاقات ہی نہیں کی تھی، یہ کرپٹ لوگ ہے ان کا کوئی نظریہ نہیں ہے انہیں کوئی فرق نہیں

پڑتا، اگراسی طرح کمپرؤمائز ہی کرنا تھا تو پھر پاکستان کیوں بنا، تیس سال سے یہ خاندان حکمرانی کر رہے ہیں، دونوں جماعتوں کے دور میں 400 ڈرون حملے ہوئے یہ چپ کر کے بیٹھے تھے، ملک کی اکثریت ابھی بھی قائداعظم کے نظریے پراعتماد کرتی ہے، عام سا آدمی ہوں زندگی میں بڑی غلطیاں بھی کیں، ہمیشہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کیں، ساڑھے تین سال میری زندگی کے مشکل سال تھے، ساڑھے تین سالوں میں بہت کچھ سیکھا، ہرروزکوئی نا کوئی کرائسزہوتا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button