اسلامک کارنر

قیامت کی نشانیاں

حضرت حذیفہ بن اسید غفاریt اپڈیٹ نیوز! حضرت حذیفہ بن اسید غفاری سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم پر آفتاب نبوت طلوع ہوا، اس وقت ہم آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے، نبیؐ نے پوچھا کہ تم لوگ کس موضوع پر مذاکرہ کر رہے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا ہم لوگ قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں، نبیؐ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم اس سے پہلے دس علامتیں نہ دیکھ لو، پھر نبیؐ نے دھوئیں،

دجال ، دابۃ الارض، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے ، حضرت عیسیؑ کے نزول، یاجوج و ماجوج اور تین مرتبہ زمین میں دھنسنے کے واقعات پیش آنے کا تذکرہ فرمایا، ان میں سے ایک واقعہ مشرق میں پیش آئے گا، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۂ عرب میں ، اور سب سے آخر میں وہ ایک آگ ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے جمع ہونے کی جگہ کی طرف دھکیل دے گی۔ تشریح:اس حدیث میں نبیؐ نے قیامت کی دس بڑی علامتیں بیان فرمائی ہیں لیکن یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ نبیؐ کا مقصد صرف ان علامات کو بیان کرنا ہے، ان علامات میں ترتیب زمانی کا خیال رکھنا مقصود نہیں ہے، اور نہ ہی یہ علامات زمانی ترتیب کے مطابق ہیں، بلکہ ان میں سے کچھ علامات وہ ہوں گی جو پہلے ظاہر ہوں گی اور کچھ علامات ان کے بعد ظاہر ہوں گی ، یہاں ان علامات کی مختصر وضاحت درج کی جاتی ہے تا کہ حدیث کا مفہوم واضح ہو جائے ،

لیکن اس کیلئے ہم نبیؐ کی ترتیب میں تبدیلی پیدا نہیں کریں گے اور اسی ترتیب سے ان کی وضاحت کریں گےچنانچہ سب سے پہلی علامت نبیؐ نے ایک دھواں قرار دی ہے، محدثین نے اس کی وضاحت میں تحریر فرمایا ہے کہ قیامت کے قریب ایک دن کہیں سے دھواں نکلے گا، وہ دھواں بڑھتے بڑھتے مشرق سے لیکر مغرب تک اور شمال سے لیکر جنوب تک پھیل جائے گا، اور مسلسل چالیس دن تک برقرار رہے گا، ظاہر ہے کہ جس کی وجہ سے لوگ سخت پریشان ہو جائیں گے، کیونکہ اگر کسی گھر میں لکڑی کے چولہے پر روٹیاں یا سالن پک رہا ہو تو وہاں سے نکلنے والا معمولی دھواں لوگوں کیلئے ناقابل برداشت ہوتا ہے، چہ جائیکہ ایسا دھواں نکلے جو پورے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لے، لیکن اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمان اس دھوئیں کی وجہ سے صرف نزلہ اور زکام کا شکار ہوں گے، جبکہ منافقین اور کفار اس کی وجہ سے بیہوش ہو جائیں گے

اور کئی کئی دن تک بیہوش رہیں گے، بالآخر چالیس دن کے بعد یہ دھواں خود بخود غائب ہو جائے گا، دوسری علامت دجال کا خروج ہے، اس پر تفصیلی کلام عنقریب آیا چاہتا ہے، تیسری علامت دابۃ الارض کا خروج ہے، دابۃ الارض کا لفظی معنی ہوتا ہے زمین کا چوپایہ، اور اس سے مراد دیمک ہوتی ہے جو لکڑی کو چاٹ جاتی ہے اورلکڑی بُھربُھری ہو کر بیکار ہو جاتی ہے، لیکن جب علامات قیامت کے بیان میں یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ مخصوص جانور لیا جاتا ہے جو قیامت کے قریب خروج کرے گا، اس جانور کا چہرہ اور قدوقامت عام جانوروں سے مختلف ہو گا، قیامت کے قریب ایک دن حرم کعبہ میں زلزلہ آئے گا جس کی وجہ سے صفا پہاڑی شق ہو جائے گی اور اس میں سے یہ جانور نکلے گا، اس جانور کے ایک ہاتھ میں حضرت موسیؑ کی لاٹھی اور دوسرے ہاتھ میں حضرت سلیمانؑ کی انگوٹھی ہو گی، وہ جانور پوری دنیا میں پھر جائے گا

اور ہر شخص پر نشان لگاتا جائے گا، جو شخص مسلمان ہو گا، یہ جانور اس پر حضرت سلیمانؑ کی انگوٹھی سے نشان لگائے گا اور اس کی پیشانی پر مؤمن لکھ دے گا اور جو شخص کافر ہو گا، یہ جانور اس پر حضرت موسیؑ کی انگوٹھی سے مہر لگا دے گا اور اس کی پیشانی پر کافر لکھ دے گا، یہ جانور انتہائی تیز رفتار ہو گا اور کوئی شخص دوڑ میں اس کا مقابلہ نہ کر سکے گا، مؤمن اور کافر کے درمیان اس امتیاز کے بعد اسے ختم کرنا ممکن نہ ہو گا، اور ہزار طرح کے جتن کر لینے کے بعد بھی پیشانی پر لکھ ہوئے لفظ مؤمن یا کافر کو مٹایا نہ جا سکے گا اور مؤمن و کافر کی شناخت اس کے بعد نہایت آسان ہو جائے گی۔ چوتھی علامت ’’جو کہ قیامت کی انتہائی قریبی علامت ہے اور اس کے بعد کسی کا ایمان لانا معتبر نہ ہو گا‘‘ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، اس پر تفصیلی کلام اپنے موقع پر آئے گا، چھٹی علامت یاجوج و ماجوج کا خروج ہے

جو حضرت عیسیؑ کے زمانے میں ہی ہو گا، ساتویں، آٹھویں اور نویں علامت زمین میں لوگوں کو دھنسائے جانے کے وہ تین واقعات ہیں جن میں سے ایک مغرب میں، ایک مشرق میں اور ایک جزیرۂ عرب میں پیش آئے گا ، گو کہ ان علاقوں میں خسف کے ایسے واقعات بارہا مرتبہ پیش آچکے ہیں لیکن احادیث کے سیاق وسباق سے واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے قریب پیش آنے والے ایسے واقعات ماضی کی نسبت بہت زیادہ ہولناک اور خطرناک ہوں گے، ان کے نقصانات بہت زیادہ ہوں گے، اور ان کے نتیجے میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، دسویں اور آخری علامت سرزمین یمن سے ایک آگ کا خروج ہے جو لوگوں کا پیچھا کرے گی اور انہیں گھیر گھار کر ملکِ شام میں جمع کر دے گی۔ خلاصۂ کلام یہ کہ قیامت سے پہلے ان دس علامتوں کا پورا ہونا ضروری ہے، جب تک یہ علامات پوری نہ ہوں گی ، قیامت نہ آئے گی۔ واللہ اعلم

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button