پاکستان

اومیکرون پھیپھڑوں کو کم مؤثر طریقے سے متاثر کرتا ہے، تحقیق

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی

کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون ممکنہ طور پر بہت زیادہ بیمار کرنے کا باعث اس لیے نہیں بنتی کیونکہ یہ سابقہ اقسام کے مقابلے میں انسانوں کے پھیپھڑوں کے خلیات پر مختلف انداز حملہ آور ہوتا ہے۔

یہ بات لیبارٹری میں ہونے والی 2 تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئی۔

پہلی تحقیق کے لیے مختلف یونیورسٹیوں کے 31 سائنسدانوں کے گروپ نے مل کر کام کیا جبکہ دوسری تحقیق اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے اداروں کی تھی۔
یہ دونوں تحقیقی رپورٹس ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئیں بلکہ پری پرنٹ سرور پر جاری کی گئیں۔
پہلی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ اومیکرون میں ہونے والی متعدد میوٹیشنز کے نتیجے میں بظاہر جسم کے اندر اس کے نقول بنانے کا عمل مکمل طور پر بدل گیا۔
تحقیق میں شامل کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر روینڈرا گپتا نے بتایا کہ کہ اومیکرون نے درحقیقت متعدد ذرائع سے اپنے طور پر بہت کچھ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائرس کی بائیولوجی ویسی نہیں جیسے پرانی اقسام کی تھیں، یہ لگ بھگ بالکل نیا وائرس ہے۔
اب تک ابتدائی تحقیقی رپورٹس اور حقیقی دنیا کے ڈیٹا سے یہی عندیہ ملا ہے کہ اومیکرون سے متاثر ہونے والے افراد میں بیماری کی سنگین شدت اور موت کا خطرہ دیگر اقسام کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ یہ مانا جاتا ہے کہ پھیپھڑوں کے ٹشوز میں گہرائی میں بیماری کے پہنچنے کے نتیجے میں زیادہ سنگین بیماری کا سامنا ہوتا ہے۔
ڈیلٹا میں موجود میوٹیشنز نے اسے دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے پھیپھڑوں کے خلیات میں داخل ہونے کا موقع ملا۔
اس کے مقابلے میں اومیکرون کے اسپائیک پروٹین کافی مختلف ہے اور لیبارٹری ٹیسٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اومیکرون ڈیلٹا کے مقابلے میں پھیپھڑوں کو زیادہ بری طرح متاثر نہیں کرسکتا۔

مگر اومیکرون کا اسپائیک پروٹین انسانی خلیات کو جکڑنے میں بہت زیادہ بہتر کام کرتا ہے جس کے باعث وہ دیگر اقسام سے زیادہ متعدی ہے۔
درحقیقت امیکرون سانس کے خلیات کو زیادہ متاثر کرتا ہے اور اسی وجہ سے ممکنہ طور پر مریضوں میں بیماری کی علامات کی شدت معمولی ہوتی ہے۔
حقیقی دنیا کا ڈیٹا اس دریافت کو سپورٹ کرتا ہے اور ڈیلٹا قسم کے مقابلے میں اومیکرون سے متاثر بہت کم افراد کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پڑی ہے۔

محققین کے مطابق ہ نتائج ابتدائی ہیں مگر ان سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم کم خطرناک ہے۔
مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا اچھا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم کم خطرناک ہے مگر ابھی بھی ہم اس کے بارے میں بہت کچھ نہیں جانتے۔
ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ اومیکرون سے طویل المعیاد مسائل یعنی لانگ کووڈ کا خطرہ تو نہیں بڑھتا جیسا دیگر اقسام میں دیکھنے میں آتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا ممکن ہے کہ مستقبل میں کورونا کی ایسی اقسام ابھر کر سامنے آئے جو زیادہ جان لیوا ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button